تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْ بَلَغَ:} یعنی میری طرف یہ قرآن اس لیے وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمھیں اس سے ڈراؤں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے۔ اس سے مراد قیامت تک آنے والے تمام عرب و عجم اور جن و انس ہیں اور مقصد یہ ہے کہ میری رسالت عالم گیر اور قیامت تک کے لیے ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مطابق روم، ایران، حبشہ اور کئی ممالک کو دین اسلام کی دعوت دی اور اپنی امت کے ہر فرد کو حکم دیا: [بَلِّغُوْا عَنِّيْ وَلَوْ آيَةً] ”میری طرف سے پہنچا دو خواہ ایک آیت (مسئلہ) ہو۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل: ۳۴۶۱، عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بات سننے والوں میں سے ہر شخص اسے پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں۔“ [بخاری، الحج، باب الخطبۃ أیام منًی: ۱۷۴۱]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر اس بندے (کے چہرے) کو تروتازہ رکھے جو میری بات یاد رکھے اور آگے پہنچا دے۔“ [ترمذی، العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع: ۲۶۵۶ تا ۲۶۵۸] ان احادیث اور آیات سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کے احکام تمام لوگوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہیں، ان میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ ہر زمانے کے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اسے اگلے زمانے کے لوگوں تک پہنچائیں۔ قرآن کے احکام کو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک محدود رکھنا اور حالات کی تبدیلی کے بہانے قرآن و حدیث کے احکام میں تبدیلی کرنا قرآن کے احکام سے جان چھڑانے کی کوشش ہے اور صریح تحریف ہے، جس کی وجہ سے یہودی ملعون ٹھہرے۔
➌ {اَىِٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ …:} یعنی قرآن میں مذکور توحید کے واضح اور قطعی دلائل کے باوجود کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہیں۔ آپ کہہ دیجیے تم جو چاہو کہو، میں یہ شہادت کبھی نہیں دے سکتا۔ کہہ دیجیے کہ معبود تو صرف ایک اللہ ہے، میں کسی اور کو معبود نہیں مانتا اور صاف کہتا ہوں کہ میں ان تمام ہستیوں سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو، بری ہوں ”مَا“ مصدریہ ہو تو معنی ہو گا، میں تمھارے شرک سے جو تم کرتے ہو، بری ہوں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[22] یعنی گواہی محض قیاس اور ظن و تخمین کی بنا پر نہیں دی جا سکتی جب تک اس کے متعلق یقین کامل یا حقیقی علم نہ ہو یا اسے واضح دلائل سے ثابت نہ کیا جا سکتا ہو۔ سو ائے مشرکین مکہ! بتاؤ تم اپنے ان معبودوں کے متعلق ایسی گواہی دے سکتے ہو؟ اور اگر تم ایسی گواہی دے بھی دو تو کم از کم میں ایسی گواہی دینے کو تیار نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل} لهم لمَّا بيَّنَّا لهم الهدى وأوضحنا لهم المسالك: {أيُّ شيء أكبرُ شهادةً}: على هذا الأصل العظيم، {قل اللهُ} أكبرُ شهادةً؛ فهو {شهيدٌ بيني وبينَكم}؛ فلا أعظمَ منه شهادةً ولا أكبرَ، وهو يشهدُ لي بإقراره وفعلِهِ، فَيُقِرُّني على ما قلتُ لكم؛ كما قال تعالى: {ولو تَقَوَّلَ عَلَيْنا بَعْضَ الأقاويل لأخَذْنا منه باليمين ثم لَقَطَعْنا منه الوتينَ}؛ فالله حكيمٌ قديرٌ، فلا يليق بحكمتِهِ وقدرتِهِ أن يقرَّ كاذباً عليه، زاعماً أنَّ الله أرسلَه ولم يرسِلْه، وأن الله أمره بدعوة الخلق ولم يأمره، وأن الله أباح له دماء من خالفَه وأموالهم ونساءهم وهو مع ذلك يصدِّقه بإقرارِهِ وبفعلِهِ، فيؤيِّده على ما قال بالمعجزاتِ الباهرةِ والآياتِ الظاهرة، وينصرُهُ ويخذِلُ مَن خالفه وعاداه؛ فأيُّ شهادةٍ أكبرُ من هذه الشهادة. وقوله: {وأُوْحيَ إليَّ هذا القرآن لأنذِرَكُم به ومَن بَلَغَ}؛ أي: وأوحى الله إليَّ هذا القرآن الكريم لمنفعتِكم ومصلحتِكم؛ لأنْذِرَكُم به من العقاب الأليم، والنّذارة إنما تكون بذكر ما ينذِرُهم به من الترغيب والترهيب وببيان الأعمال والأقوال الظاهرة والباطنة التي مَن قام بها فقد قَبِلَ النذارة؛ فهذا القرآن فيه النذارةُ لكم أيُّها المخاطَبون وكل مَن بَلَغَهُ القرآن إلى يوم القيامة؛ فإن فيه بيان كلِّ ما يُحتاج إليه من المطالب الإلهية.
لما بيَّن تعالى شهادَته التي هي أكبر الشهادات على توحيدِهِ؛ قال: قلْ لهؤلاء المعارضين لخبر الله والمكذِّبين لرسله: {أئنَّكم لَتشهدونَ أنَّ مع الله آلهةً أخرى قل لا أشهدُ}؛ أي: إن شهدوا؛ فلا تشهدْ معهم، فوازنْ بين شهادةِ أصدق القائلين وربِّ العالمين، وشهادة أزكى الخلق المؤيَّدة بالبراهين القاطعة والحجج الساطعة على توحيد الله وحدَه لا شريك له، وشهادةِ أهل الشِّرك الذين مَرَجَتْ عقولُهم وأديانُهم وفَسَدَتْ آراؤهم وأخلاقهم وأضحكوا على أنفسهم العقلاءَ، بل خالفتْ شهادتُهم فِطَرَهم وتناقضتْ أقوالُهم على إثبات أنَّ مع الله آلهةً أخرى مع أنه لا يقومُ على ما خالفوه أدنى شُبهة فضلاً عن الحُجج، واختر لنفسك أيَّ الشهادتين إن كنت تعقلُ، ونحن نختارُ لأنفسنا ما اختارَه الله لنبيِّه الذي أمرنا الله بالاقتداء به فقال: {قلْ إنَّما هو إله واحدٌ}؛ أي: منفرد لا يستحقُّ العبوديَّة والإلهية سواه كما أنه المنفرد بالخلق والتدبير. {وإنني بريءٌ مما تشرِكون} به من الأوثان والأنداد وكل ما أُشْرِكَ به مع الله. فهذا حقيقة التوحيد: إثبات الإلهية لله، ونفيها عما عداه.