تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 163

لَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۶۳﴾
اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ En
جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں
En
اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَا شَرِیْكَ لَهٗ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو بلکہ ﴿ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی حتمی حکم۔ اور اس حکم کی تعمیل کیے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الْ٘مُسْلِمِیْنَ اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں۔ یعنی اس امت میں، پہلا مسلمان ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا شريكَ له}: في العبادة؛ كما أنه ليس له شريكٌ في الملك والتدبير، وليس هذا الإخلاص لله ابتداعاً مني وبدعاً أتيته من تلقاء نفسي، بل {بذلك أمِرْتُ}: أمراً حتماً لا أخرج من التبعة إلا بامتثاله، {وأنا أول المسلمين}: من هذه الأمة.