تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَاشَرِیْكَلَهٗ ﴾ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو بلکہ ﴿ وَبِذٰلِكَاُمِرْتُ ﴾”اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔“ یعنی حتمی حکم۔ اور اس حکم کی تعمیل کیے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا ﴿ وَاَنَااَوَّلُالْ٘مُسْلِمِیْنَ ﴾”اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں۔“ یعنی اس امت میں، پہلا مسلمان ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا شريكَ له}: في العبادة؛ كما أنه ليس له شريكٌ في الملك والتدبير، وليس هذا الإخلاص لله ابتداعاً مني وبدعاً أتيته من تلقاء نفسي، بل {بذلك أمِرْتُ}: أمراً حتماً لا أخرج من التبعة إلا بامتثاله، {وأنا أول المسلمين}: من هذه الأمة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔