کہہ دے اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کرو، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں، تو تم عنقریب جان لو گے وہ کون ہے جس کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہوتا ہے۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔
En
کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے
آپ یہ فرما دیجئے کہ اے میری قوم! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی عمل کررہا ہوں، سو اب جلد ہی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم کا انجام کار کس کے لیے نافع ہوگا۔ یہ یقینی بات ہے کہ حق تلفی کرنے والوں کو کبھی فلاح نہ ہوگی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْ ﴾”کہہ دیجیے“ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿یٰقَوْمِاعْمَلُوْاعَلٰىمَكَانَتِكُمْ ﴾”اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر“ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّیْعَامِلٌ ﴾”میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں۔“ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوْفَتَعْلَمُوْنَ١ۙمَنْتَكُوْنُلَهٗعَاقِبَةُالدَّارِ ﴾”عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر“ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ اِنَّهٗلَایُفْ٘لِحُالظّٰلِمُوْنَ ﴾”یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے“ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِناللّٰہَلُیُمْلِیللِظَّالِمِ،حَتَّیاِذَااَخَذَہُلَمیُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ”اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں “
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل}: يا أيها الرسولُ لقومك إذا دعوتَهم إلى الله وبينت لهم مآلهم وما عليهم من حقوقه فامتنعوا من الانقياد لأمرِهِ واتَّبعوا أهواءهم واستمروا على شركهم: {يا قومِ اعملوا على مكانتِكُم}؛ أي: على حالتكم التي أنتم عليها ورضيتموها لأنفسكم، {إني عاملٌ}: على أمر الله ومتبعٌ لمراضي الله: {فسوف تعلمونَ من تكونُ له عاقبةُ الدار}: أنا أو أنتم، وهذا من الإنصاف بموضع عظيم؛ حيث بيَّن الأعمال وعامليها، وجعل الجزاء مقروناً بنظر البصير، ضارباً فيه صفحاً عن التصريح الذي يغني عنه التلويح، وقد علم أن العاقبة الحسنة في الدنيا والآخرة للمتقين، وأن المؤمنين لهم عُقبى الدار، وأنَّ كلَّ معرض عن ما جاءت به الرسل عاقبته عاقبة سوء وشر، ولهذا قال: {إنه لا يفلحُ الظالمونَ}: فكلُّ ظالم وإن تمتَّع في الدُّنيا بما تمتع به؛ فنهايته فيه الاضمحلال والتلف؛ إن الله ليملي للظالم حتى إذا أخذه لم يُفْلِتْه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔