تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 134

اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ ۙ وَّ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾
بے شک وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے، ضرور آنے والی ہے اور تم کسی صورت عاجز کرنے والے نہیں۔ En
کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے
En
جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وه بے شک آنے والی چیز ہے اور تم عاجز نہیں کرسکتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولا يستبعد المعرض الغافل سرعة الوصول إلى هذه الدار؛ فإنَّ {ما توعدونَ لآتٍ وما أنتُم بمعجزينَ}: لله، فارِّين من عقابه؛ فإنَّ نواصِيَكم تحت قبضته، وأنتم تحت تدبيره وتصرفه.