وہ اللہ ہی ہے جو خاکہ بنانے والا، گھڑنے ڈھالنے والا، صورت بنادینے والا ہے، سب اچھے نام اسی کے ہیں، اس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
En
وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے
وہی اللہ ہے پیدا کرنے واﻻ وجود بخشنے واﻻ، صورت بنانے واﻻ، اسی کے لیے (نہایت) اچھے نام ہیں، ہر چیز خواه وه آسمانوں میں ہو خواه زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ هُوَاللّٰهُالْؔخَالِـقُ﴾ جو تمام مخلوقات کا خالق ہے ﴿ الْبَارِئُ﴾ جو تمام کائنات کو نیست سے ہست (عدم سے وجود) میں لاتا ہے ﴿ الْمُصَوِّرُ﴾ وہ تمام صورت رکھنے والوں کی صورت گری کرتا ہے۔ یہ تمام اسمائے حسنیٰ تخلیق و تدبیر اور تقدیر سے متعلق ہیں، ان تمام اوصاف میں اللہ تبارک و تعالیٰ متفرد ہے اور کوئی اس میں شریک نہیں ﴿ لَهُالْاَسْمَآءُالْحُسْنٰؔى﴾ یعنی اس کے بہت زیادہ نام ہیں جن کو کوئی معلوم کر سکتا ہے نہ شمار کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تمام نام اچھے ہیں، یعنی اس کے تمام نام صفات کمال ہیں بلکہ یہ اسماء کامل ترین اور عظیم ترین صفات پر دلالت کرتے ہیں، جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی نقص نہیں۔ ان اسماء کا حسن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے اور وہ اس شخص کو بھی پسند کرتا ہے جو ان اسماء کو پسند کرتا ہے۔وہ اپنے بندوں سے اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کو پکاریں اور ان ناموں کے واسطے سے اس سے سوال کریں۔
یہ اس کا کمال ہے کہ وہ اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کا مالک ہے، نیز یہ کہ آسمانوں اور زمین میں رہنے والے دائمی طور پر اس کے محتاج ہیں، اس کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اس سے اپنی تمام حوائج کا سوال کرتے ہیں۔ وہ اپنے فضل و کرم سے انھیں وہ سب کچھ عطا کرتا ہے جس کا تقاضا اس کی رحمت اور حکمت کرتی ہے۔ ﴿ وَهُوَالْ٘عَزِیْزُالْحَكِیْمُ﴾ یعنی وہ جس چیز کا بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہو جاتی ہے، اور جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{هو اللهُ الخالقُ}: لجميع المخلوقات. {البارئ}: للمبروءات. {المصوِّر}: للمصوَّرات. وهذه الأسماء متعلِّقةٌ بالخلق والتدبير والتقدير، وأنَّ ذلك كله قد انفرد الله به لم يشارِكْه فيه مشاركٌ. {له الأسماءُ الحسنى}؛ أي: له الأسماء الكثيرة جدًّا، التي لا يُحصيها ولا يعلمها أحدٌ إلا هو ، ومع ذلك؛ فكلُّها حسنى؛ أي: صفات كمال، بل تدلُّ على أكمل الصفات وأعظمها، لا نقص في شيء منها بوجهٍ من الوجوه، ومن حسنها أنَّ الله يحبُّها ويحبُّ من يحبُّها ويحبُّ من عباده أن يدعوه ويسألوه بها. ومن كماله وأنَّ له الأسماء الحسنى والصفات العليا أنَّ جميع من في السماوات والأرض مفتقرون إليه على الدَّوام؛ يسبِّحون بحمده، ويسألونه حوائجهم، فيعطيهم من فضله وكرمه ما تقتضيه رحمتُه وحكمتُه. {وهو العزيزُ الحكيم}: الذي لا يريد شيئاً إلاَّ ويكون، ولا يكوِّن شيئاً إلاَّ لحكمةٍ ومصلحةٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔