تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى:} یعنی ان آیات میں جو اسماء اور صفات بیان ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ صرف انھی کے ساتھ متصف نہیں، بلکہ ہر بہترین اسم و صفت کا وہی مستحق ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۰) کی تفسیر۔
➌ {يُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} سورت کی ابتدا بھی اسی بات سے ہوئی ہے اور انتہا بھی۔ ابتدا میں{” سَبَّحَ لِلّٰهِ “} ہے اور انتہا میں {” يُسَبِّحُ لَهٗ “} ہے۔ اس میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانے آگئے۔ آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حدید کی پہلی آیت اور سورۂ بنی اسرائیل (۴۴) کی تفسیر۔
➍ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ {” أَعُوْذُ بِاللّٰهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ “} کہے، پھر سورۂ حشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ستر ہزار (70,000) فرشتے مقرر کر دیتے ہیں جو شام تک اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔ اگر وہ اس دن فوت ہو جائے تو شہید فوت ہوگا اور جو شام کو انھیں پڑھ لے اسے بھی یہ مرتبہ ملے گا۔“ [ترمذي، فضائل القرآن، باب في فضل قراء ۃ آخر سورۃ الحشر: ۲۹۲۲۔ مسند أحمد: 26/5، ح: ۲۰۳۰۶] مسند احمد کے محققین اور شیخ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ تفصیل مسند احمد کی تحقیق میں ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[40] ﴿البَارِيُ﴾ ﴿برأ﴾ بمعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا، جامہ خلقت پہنانا، کسی چیز کا مادہ بھی وجود میں لانا پھر اس سے تخلیق کرنا یا بغیر مادہ کے تخلیق کرنا اور یہ صفت صرف اللہ کی ہے۔ دوسرا کوئی باری نہیں ہو سکتا۔
[41] ﴿المُصَوِّرُ﴾ بمعنی صورت بنانے والا۔ تصویر بنانے والا۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ رحم مادر میں نطفہ اور مضغہ پر نقش و نگار بناتا ہے کسی کے نقوش تیکھے، کسی کے بھدے، کسی کی آنکھیں موٹی، کسی کی چھوٹی، کسی کا قد چھوٹا کسی کا بڑا۔ دوسرا پہلو یہ کہ ہر جاندار کی شکل و صورت الگ الگ ہے۔ انسان کی صورت الگ ہے، گھوڑے کی الگ، شیر کی الگ، بکری کی الگ، وغیرہ وغیرہ، تیسرا پہلو نباتات اور مختلف قسم کے پھولوں کی شکل و صورت ہے۔ غرضیکہ ہر چیز کو اللہ نے ایک صورت عطا فرمائی اور وہ بڑی اچھی صورت بنانے والا ہے۔
[42] اللہ کے ماسوائے اللہ تعالیٰ کے باقی سب نام صفاتی ہیں۔ اور چونکہ اللہ کی سب صفات بہترین ہیں۔ لہٰذا اس کے سب نام بھی اچھے ہیں۔ جو اعلیٰ درجہ کی خوبیوں اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔ عیب اور نقص والی کوئی صفت اس میں ہے ہی نہیں۔ احادیث صحیحہ کے مطابق ان ناموں کی تعداد ننانوے ہے۔ ان کو حفظ کرنا اور صبح و شام ان کو پڑھنا باعث خیر و برکت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وہ «المهيمن» ہے یعنی اپنی تمام مخلوق کے اعمال کا ہر وقت یکساں طور شاہد ہے اور نگہبان ہے، جیسے فرمان ہے «وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» ۱؎ [85-البروج:9] ’ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر شاہد ہے۔‘
اور جگہ فرمایا «أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ» ۱؎ [13-الرعد:33]، مطلب یہ ہے کہ ’ ہر نفس جو کچھ کر رہا ہے اسے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ ‘
وہ «عزیز» ہے ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے، کل مخلوق پر وہ غالب ہے پس اس کی عزت عظمت، جبروت کبریائی کی وجہ سے اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا، وہ «جبار» اور «متکبر» ہے، جبریت اور کبر صرف اسی کے شایان شان ہے۔
صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے { عظمت میرا تہبند ہے اور کبریائی میری چادر ہے جو مجھ سے ان دونوں میں سے کسی کو چھیننا چاہے گا میں اسے عذاب کروں گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2660]
اپنی مخلوق کو جس چیز پر چاہے وہ رکھ سکتا ہے، کل کاموں کی اصلاح اسی کے ہاتھ ہے، وہ ہر برائی سے نفرت اور دوری رکھنے والا ہے، جو لوگ اپنی کم سمجھی کی وجہ سے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں وہ ان سب سے بیزار ہے، اس کی الوہیت شرکت سے مبرا ہے، اللہ تعالیٰ خالق ہے یعنی مقدر مقرر کرنے والا، پھر باری ہے یعنی اسے جاری اور ظاہر کرنے والا، کوئی ایسا نہیں کہ جو تقدیر اور تنقید دونوں پر قادر ہو، جو چاہے اندازہ مقرر کرے اور پھر اسی کے مطابق اسے چلائے بھی، کبھی بھی اس میں فرق نہ آنے دے، بہت سے ترتیب دینے والے اور اندازہ کرنے والے ہیں، جو پھر اسے جاری کرنے اور اسی کے مطابق برابر جاری رکھنے پر قادر نہیں، تقدیر کے ساتھ ایجاد اور تنقید پر بھی قدرت رکھنے والی اللہ کی ہی ذات ہے، پس «خلق» سے مراد تقدیر اور «برء» سے مراد تنفیذ ہے۔
عرب میں یہ الفاظ ان معنوں میں برابر بطور مثال کے بھی مروج ہیں، اسی کی شان ہے کہ جس چیز کو جب جس طرح کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی طرح اسی صورت میں ہو جاتی ہے جیسے فرمان ہے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الإنفطار:8] ’ جس صورت میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دی۔ ‘ اسی لیے یہاں فرماتا ہے وہ مصور بےمثل ہے یعنی جس چیز کی ایجاد جس طرح کی چاہتا ہے کہ گزرتا ہے۔
ترمذی میں ان ناموں کی صراحت بھی آئی ہے جو نام یہ ہیں۔ «هُوَ اللَّه الَّذِي لَا إِلَه إِلَّا هُوَ الرَّحْمَن الرَّحِيم الْمَلِك الْقُدُّوس السَّلَام الْمُؤْمِن الْمُهَيْمِن الْعَزِيز الْجَبَّار الْمُتَكَبِّر الْخَالِق الْبَارِئ الْمُصَوِّر الْغَفَّار الْقَهَّار الْوَهَّاب الرَّزَّاق الْفَتَّاح الْعَلِيم الْقَابِض الْبَاسِط الْخَافِض الرَّافِع الْمُعِزّ الْمُذِلّ السَّمِيع الْبَصِير الْحَكَم الْعَدْل اللَّطِيف الْخَبِير الْحَلِيم الْعَظِيم الْغَفُور الشَّكُور الْعَلِيّ الْكَبِير الْحَفِيظ الْمُقِيت الْحَسِيب الْجَلِيل الْكَرِيم الرَّقِيب الْمُجِيب الْوَاسِع الْحَكِيم الْوَدُود الْمَجِيد الْبَاعِث الشَّهِيد الْحَقّ الْوَكِيل الْقَوِيّ الْمَتِين الْوَلِيّ الْحَمِيد الْمُحْصِي الْمُبْدِئ الْمُعِيد الْمُحْيِي الْمُمِيت الْحَيّ الْقَيُّوم الْوَاجِد الْمَاجِد الْوَاحِد الصَّمَد الْقَادِر الْمُقْتَدِر الْمُقَدِّم الْمُؤَخِّر الْأَوَّل الْآخِر الظَّاهِر الْبَاطِن الْوَالِي الْمُتَعَالِي الْبَرّ التَّوَّاب الْمُنْتَقِم الْعَفُوّ الرَّءُوف مَالِك الْمُلْك ذُو الْجَلَال وَالْإِكْرَام الْمُقْسِط الْجَامِع الْغَنِيّ الْمُغْنِي الْمُعْطِي الْمَانِع الضَّارّ النَّافِع النُّور الْهَادِي الْبَدِيع الْبَاقِي الْوَارِث الرَّشِيد الصَّبُور» ۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3507،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں کچھ تقدیم تاخیر کمی زیادتی بھی ہے، الغرض ان تمام احادیث وغیرہ کا بیان پوری طرح سورۃ الاعراف میں گزر چکا ہے، اس لیے یہاں صرف اتنا لکھ دینا کافی ہے باقی سب کو دوبارہ وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ آسمان و زمین کی کل چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا» [17-الإسراء:44] یعنی ’ اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، ساتوں آسمان اور زمینیں اور ان میں جو مخلوق ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح حمد کے ساتھ بیان نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بردبار اور بخشش کرنے والا ہے۔‘
وہ عزیز ہے اس کی حکمت والی سرکار اپنے احکام اور تقدیر کے تقدر میں ایسی نہیں کہ کسی طرح کی کمی نکالی جائے یا کوئی اعتراض قائم کیا جا سکے۔
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الحشر کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{هو اللهُ الخالقُ}: لجميع المخلوقات. {البارئ}: للمبروءات. {المصوِّر}: للمصوَّرات. وهذه الأسماء متعلِّقةٌ بالخلق والتدبير والتقدير، وأنَّ ذلك كله قد انفرد الله به لم يشارِكْه فيه مشاركٌ. {له الأسماءُ الحسنى}؛ أي: له الأسماء الكثيرة جدًّا، التي لا يُحصيها ولا يعلمها أحدٌ إلا هو ، ومع ذلك؛ فكلُّها حسنى؛ أي: صفات كمال، بل تدلُّ على أكمل الصفات وأعظمها، لا نقص في شيء منها بوجهٍ من الوجوه، ومن حسنها أنَّ الله يحبُّها ويحبُّ من يحبُّها ويحبُّ من عباده أن يدعوه ويسألوه بها. ومن كماله وأنَّ له الأسماء الحسنى والصفات العليا أنَّ جميع من في السماوات والأرض مفتقرون إليه على الدَّوام؛ يسبِّحون بحمده، ويسألونه حوائجهم، فيعطيهم من فضله وكرمه ما تقتضيه رحمتُه وحكمتُه. {وهو العزيزُ الحكيم}: الذي لا يريد شيئاً إلاَّ ويكون، ولا يكوِّن شيئاً إلاَّ لحكمةٍ ومصلحةٍ.