کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں سر گوشی کرنے سے منع کیا گیا، پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹتے ہیں جس سے انھیں منع کیا گیا اور آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے ، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔
En
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وه پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوباره کرتے ہیں اور آپس میں گناه کی اور ﻇلم وزیادتی کی اور نافرمانیٴ پیغمبر کی سرگوشیاں کرتے ہیں، اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا، ان کے لیے جہنم کافی (سزا) ہے جس میں یہ جائیں گے، سو وه برا ٹھکانا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ النَّجْوٰى﴾ دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا۔کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔(اَلْبِرُّ) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے۔ ﴿ التَّقْوٰى﴾ تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کر دینے کے لیے جامع نام ہے پس بندۂ مومن اس حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے، اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (اَلْفَاجِر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ اور حقیر سمجھتا ہے، جو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشی کرتا ہے، جیسے منافقین، جن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی حال اور وتیرہ تھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذَاجَآءُوْكَحَیَّوْكَبِمَالَمْیُحَیِّكَبِهِاللّٰهُ﴾”اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس کلمے سے سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔“ یعنی آپ کو سلام کرنے میں سوء ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿ وَیَقُوْلُوْنَفِیْۤاَنْفُسِهِمْ﴾ یعنی وہ اپنے دل میں ایک قول کو چھپاتے ہیں جس کا ذکر غیب و شہادت کا علم رکھنے والی ہستی نے کیا ہے اور وہ ان کا یہ قول ہے: ﴿ لَوْلَایُعَذِّبُنَااللّٰهُبِمَانَقُوْلُ﴾”اللہ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا۔“ اور مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ اس کو حقیر اور ہیچ سمجھتے ہیں، اور ان پر جلدی عذاب نہ آنے سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں باطل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ (مجرموں کو) مہلت دیتا ہے، مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿ حَسْبُهُمْجَهَنَّمُ١ۚیَصْلَوْنَهَا١ۚفَبِئْسَالْمَصِیْرُ﴾ یعنی ان کے لیے جہنم کافی ہے، جس میں ان کے لیے ہر قسم کا عذاب اور بدبختی جمع ہے۔ جہنم ان کو گھیر لے گا اور جہنم میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ ﴿ فَبِئْسَالْمَصِیْرُ﴾”پس وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔“ یہ لوگ جن کا (ان آیا ت کریمہ میں)ذکر کیا گیا ہے، یا تو منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہوتے تھے، جس سے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس خطاب سے ان کا ارادہ بھلائی ہے حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ یا اہل کتاب میں سے وہ لوگ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ (السَّامُعَلَیْکَیَامُحَمَّدُ)اور وہ اس سے موت مراد لیتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
النَّجْوى هي التناجي بين اثنين فأكثر، وقد تكون في الخير وتكونُ في الشرِّ، فأمر الله المؤمنين أنْ يَتَناجَوْا بالبرِّ، وهو اسمٌ جامعٌ لكلِّ خيرٍ وطاعةٍ وقيام بحقِّ الله وحقِّ عباده ، والتَّقوى، وهي هنا اسمٌ جامعٌ لترك جميع المحارم والمآثم؛ فالمؤمن يمتثل هذا الأمر الإلهيَّ؛ فلا تجده مناجياً ومتحدثاً إلاَّ بما يقرِّبه إلى الله ويباعده من سخطه، والفاجر يتهاونُ بأمر الله ويناجي بالإثم والعدوان ومعصية الرسول؛ كالمنافقين الذين هذا دأبهم وحالهم مع الرسول - صلى الله عليه وسلم -، قال تعالى: {وإذا جاؤوك حَيَّوْكَ بما لمْ يُحَيِّكَ به الله}؛ أي: يسيئون الأدب في تحيَّتهم لك، {ويقولونَ في أنفُسِهم}؛ أي: يسرُّون فيها - ما ذكره عالم الغيب والشهادة عنهم، وهو قولهم: {لولا يُعَذِّبنا الله بما نقولُ}: ومعنى ذلك أنَّهم يتهاونون بذلك، ويستدلُّون بعدم تعجيل العقوبة عليهم أنَّ ما يقولونه غيرُ محذورٍ، قال تعالى في بيان أنَّه يمهِلُ ولا يهمِلُ: {حَسْبُهُم جهنَّمُ يَصْلَوْنها فبئس المصيرُ}؛ أي: تكفيهم جهنَّم التي جمعت كلَّ عذابٍ وشقاء عليهم، تحيط بهم ويعذَّبون بها؛ فبئس المصير. وهؤلاء المذكورون إما أناس من المنافقين، يظهِرون الإيمان ويخاطبون الرسول - صلى الله عليه وسلم - بهذا الخطاب الذي يوهمون أنَّهم أرادوا به خيراً، وهم كذبةٌ في ذلك، وإما أناسٌ من أهل الكتاب الذين إذا سلَّموا على رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؛ قالوا: السام عليك يا محمد. يعنون: الموت.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔