تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ يَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ:} اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ان کے خفیہ مشورے اور سرگوشیاں یا تو ایسے گناہوں پر مشتمل ہوتی تھیں جن کا تعلق ان کی ذات سے تھا یا ایسے گناہوں پر جن میں دوسروں پر ظلم و زیادتی ہوتی، یا پھر ان کی سرگوشیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر مشتمل ہوتی تھیں۔
➌ { وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ: ”حَيِيَ يَحْيٰ حَيَاةً“} ({خَشِيَ يَخْشٰي}) زندہ ہونا۔ {” حَيّٰي يُحَيِّيْ تَحِيَّةً “} (تفعیل) زندگی اور سلامتی کی دعا دینا، سلام کہنا۔ (دیکھیے نساء: ۸۶) یعنی جب یہ یہودی اور ان کے ہم نوا منافقین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں تو ایسے الفاظ کے ساتھ آپ کو سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کہا۔ اللہ تعالیٰ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کا ذکرِ خاص اس آیت میں ہے: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا» [الأحزاب: ۵۶] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔“ اور ذکرِ عام اس آیت میں ہے: «قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى» [النمل: ۵۹] ”کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔“ یہودی آپ کو {”اَلسَّلاَمُ عَلَيْكُمْ“} کے بجائے {”اَلسَّامُ عَلَيْكُمْ“} (تم پر موت ہو) کہتے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین نے بھی یہود کی دیکھا دیکھی یہ کام شروع کر دیا تھا، جیسا کہ انھوں نے یہود سے سیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ {” رَاعِنَا “} گالی کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اور اس کے بجائے {” انْظُرْنَا “} کہنے کا حکم دیا۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۰۴) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: [اَلسَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ!] ”اے ابو القاسم! تجھ پر موت ہو۔“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَعَلَيْكُمْ] ”اور وہ تمھی پر ہو۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں میں نے کہا: [بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ] ”بلکہ تم پر موت اور مذمت ہو۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا عَائِشَةُ! لَا تَكُوْنِيْ فَاحِشَةً] ”اے عائشہ! نازیبا الفاظ کہنے والی نہ بن۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”آپ نے وہ نہیں سنا جو انھوں نے کہا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَوَ لَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِيْ قَالُوْا، قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ] ”تو کیا میں نے وہ بات انھی پر لوٹا نہیں دی جو انھوں نے کہی ہے؟ میں نے کہہ دیا {”وَعَلَيْكُمْ “} کہ ”وہ تمھی پر ہو۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرما دی: «وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ» ”اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا۔“ [مسلم، السلام، باب النھي عن ابتداء أھل الکتاب بالسلام…: ۱۱ /۲۱۶۵۔ مسند أحمد: ۶ /۲۲۹، ۲۳۰، ح: ۲۵۹۷۸]
➍ {وَ يَقُوْلُوْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ …:} اور وہ اپنے دل میں یا آپس کی مجلس میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول نہ ہونے کی دلیل قرار دیتے تھے کہ اگر یہ رسول ہوتے تو یہ الفاظ کہتے ہوئے ہم پر عذاب آ جاتا۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کے لیے یہی دلیل کافی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اس حرکت سے آگاہ کر دیا۔ رہا عذاب، تو اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ گناہ پر اسی وقت گرفت فرمائے، اس نے تو ان لوگوں کو بھی مہلت دے رکھی ہے جو اسے گالی دیتے ہیں، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں مہلت نہیں ملی اور اس نے ہر کام کی طرح ان کے عذاب کے لیے بھی ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ چنانچہ مرنے کے بعد ان کے لیے جہنم کا عذاب تیار ہے اور وہ انھیں کافی ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی اور سزا کی ضرورت نہ رہے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ چند یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا السام علیک۔ میں سمجھ گئی اور کہا علیکم السام واللعنۃ (یعنی تم پر موت بھی آئے اور لعنت بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ذرا ٹھہرو! اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے سنا نہیں وہ کیا کہہ رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سن کر ہی انہیں وعلیکم کہا تھا۔“ [بخاري۔ كتاب الاستيذان۔ باب ايضاً]
پھر دل میں یہ بھی سوچتے یا آپس میں تبادلہ خیالات کرتے کہ اگر یہ واقعی اللہ کا رسول ہوتا تو اس کے حق میں ہماری اس بد دعا کی پاداش میں ہم پر تباہی آچکی ہوتی۔ مگر چونکہ ہماری بد دعا کے باوجود ہمارا آج تک کچھ بھی نہیں بگڑا تو ہم یہ کیسے سمجھیں کہ یہ واقعی سچا رسول ہے۔ اللہ نے منافقوں کی ان سب کارروائیوں سے مسلمانوں کو مطلع کر دیا اور ان کی مذمت بھی بیان فرمائی۔ لیکن تباہی نازل نہیں کی۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جبری اور اضطراری ایمان کے لیے پیدا نہیں کیا۔ البتہ انہیں مرنے کے بعد ان کے برے انجام سے مطلع فرمایا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم لوگ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات کو حاضر ہوتے کہ اگر کوئی کام کاج ہو تو کریں، ایک رات کو باری والے آ گئے اور کچھ اور لوگ بھی بہ نیت ثواب آ گئے چونکہ لوگ زیادہ جمع ہو گئے تو ہم ٹولیاں ٹولیاں بن کر ادھر ادھر بیٹھ گئے اور ہر جماعت آپس میں باتیں کرنے لگی، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ سرگوشیاں کیا ہو رہی ہیں؟ کیا تمہیں اس سے روکا نہیں گیا؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری توبہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اس سے کھٹکا لگا رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو میں تمہیں اس سے بھی زیادہ خوف کی چیز بتاؤں وہ پوشیدہ شرک ہے اس طرح کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور دوسروں کے دکھانے کیلئے کوئی دینی کام کرے (یعنی ریاکاری)“ اس کی اسناد غریب ہے اور اس میں بعض راوی ضعیف ہیں۔[تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف]
پھر بیان ہوتا ہے کہ ان کی خانگی سرگوشیاں یا تو گناہ کے کاموں پر ہوتی ہیں جس میں ان کا ذاتی نقصان ہے، یا ظلم پر ہوتی ہیں جس میں دوسروں کے نقصان کی ترکیبیں سوچتے ہیں یا پیغمبر علیہ السلام کی مخالفت پر ایک دوسروں کو پختہ کرتے ہیں اور آپ کی نافرمانیوں کے منصوبے گانٹھتے ہیں۔ پھر ان بدکاروں کی ایک بدترین خصلت بیان ہو رہی ہے کہ سلام کے الفاظ کو بھی یہ بدل دیتے ہیں، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السَّام عَلَيْك يَا أَبَا الْقَاسِم» ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رہا نہ گیا فرمایا «وَعَلَيْكُمْ السَّام» ، «سَّام» کے معنی موت کے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور سخت کلامی کو ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا۔ انہوں نے آپ کو «السلام» نہیں کہا بلکہ «السام» کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا؟ میں نے کہہ دیا «وَعَلَيْكُمْ» ۔“ [صحیح مسلم:2165]
اسی کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے جواب میں فرمایا تھا «عَلَیْکُمْ السَّامُ وَالذَّامُ وَاللَّعْنَتَهُ» اور آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو روکتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دعا ان کے حق میں مقبول ہے اور ان کا ہمیں کوسنا نامقبول ہے۔ [ابن ابی حاتم وغیرہ] [صحیح بخاری:6030]
پھر یہ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہو کر اپنے دل میں کہتے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہماری اس چالبازی پر ہمیں دنیا میں ضرور عذاب کرتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمارے باطنی حال سے بخوبی واقف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ انہیں دار آخرت کا عذاب ہی کافی ہے جہاں یہ جہنم میں جائیں گے اور بری جگہ پہنچیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہودیوں کا اس طریقے کا سلام ہے، [مسند احمد:170/2:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ منافق اسی طرح سلام کرتے تھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
النَّجْوى هي التناجي بين اثنين فأكثر، وقد تكون في الخير وتكونُ في الشرِّ، فأمر الله المؤمنين أنْ يَتَناجَوْا بالبرِّ، وهو اسمٌ جامعٌ لكلِّ خيرٍ وطاعةٍ وقيام بحقِّ الله وحقِّ عباده ، والتَّقوى، وهي هنا اسمٌ جامعٌ لترك جميع المحارم والمآثم؛ فالمؤمن يمتثل هذا الأمر الإلهيَّ؛ فلا تجده مناجياً ومتحدثاً إلاَّ بما يقرِّبه إلى الله ويباعده من سخطه، والفاجر يتهاونُ بأمر الله ويناجي بالإثم والعدوان ومعصية الرسول؛ كالمنافقين الذين هذا دأبهم وحالهم مع الرسول - صلى الله عليه وسلم -، قال تعالى: {وإذا جاؤوك حَيَّوْكَ بما لمْ يُحَيِّكَ به الله}؛ أي: يسيئون الأدب في تحيَّتهم لك، {ويقولونَ في أنفُسِهم}؛ أي: يسرُّون فيها - ما ذكره عالم الغيب والشهادة عنهم، وهو قولهم: {لولا يُعَذِّبنا الله بما نقولُ}: ومعنى ذلك أنَّهم يتهاونون بذلك، ويستدلُّون بعدم تعجيل العقوبة عليهم أنَّ ما يقولونه غيرُ محذورٍ، قال تعالى في بيان أنَّه يمهِلُ ولا يهمِلُ: {حَسْبُهُم جهنَّمُ يَصْلَوْنها فبئس المصيرُ}؛ أي: تكفيهم جهنَّم التي جمعت كلَّ عذابٍ وشقاء عليهم، تحيط بهم ويعذَّبون بها؛ فبئس المصير. وهؤلاء المذكورون إما أناس من المنافقين، يظهِرون الإيمان ويخاطبون الرسول - صلى الله عليه وسلم - بهذا الخطاب الذي يوهمون أنَّهم أرادوا به خيراً، وهم كذبةٌ في ذلك، وإما أناسٌ من أهل الكتاب الذين إذا سلَّموا على رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؛ قالوا: السام عليك يا محمد. يعنون: الموت.