جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے کیے ہوئے عمل سے آگاه کرے گا، جسے اللہ نے شمار رکھا ہے اور جسے یہ بھول گئے تھے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جس روز اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿ جَمِیْعًا﴾”سب کو۔“ تو وہ اپنی قبروں سے تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے، پھر وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿فَیُنَبِّئُهُمْبِمَاعَمِلُوْا﴾ چنانچہ انھوں نے جو اچھے برے اعمال کیے ہوں گے، اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ اسے ان تمام اعمال کا علم ہے اور ﴿اَحْصٰىهُاللّٰہُ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے اور حفاظت پر مامور ملائکہ کرام کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ان اعمال کو درج کرتے رہیں۔ اور عمل کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ ﴿ وَنَسُوْهُ﴾ انھوں نے اپنے اعمال کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کر رکھا ہے ﴿ وَاللّٰهُعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍشَهِیْدٌ﴾ اللہ تعالیٰ، تمام ظاہری باتوں، تمام اسرار نہاں، اور تمام چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول الله تعالى: {يوم يبعثهم اللهُ} الخلقَ جميعاً فيقومون من أجداثهم سريعاً، فيجازيهم بأعمالهم؛ وينبِّئهم بما عملوا من خيرٍ وشرٍّ؛ لأنَّه علم ذلك وكتبه في اللوح المحفوظ، وأمر الملائكة الكرام الحَفَظَة بكتابته، هذا والعاملون قد نسوا ما عملوه والله أحصى ذلك. {والله على كلِّ شيءٍ شهيدٌ}: على الظَّواهر والسَّرائر والخبايا والخفايا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔