تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المجادلة (58) — آیت 5

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ کُبِتُوۡا کَمَا کُبِتَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ وَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ۚ﴿۵﴾
بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ذلیل کیے جائیں گے، جیسے وہ لوگ ذلیل کیے گئے جو ان سے پہلے تھے اور بلاشبہ ہم نے واضح آیات نازل کی ہیں اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ En
جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ (اسی طرح) ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں۔ جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا
En
بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وه ذلیل کیے جائیں گے جیسے ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کیے گئے تھے، اور بیشک ہم واضح آیتیں اتار چکے ہیں اور کافروں کے لیے تو ذلت واﻻ عذاب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور نافرمانی ان کے ساتھ دشمنی کے زمرے میں آتی ہے، خاص طور امور قبیحہ میں، مثلاً: اللہ اور اس کے رسول کا انکار کر کے دشمنی کرنا اور اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا۔ فرمایا: ﴿ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ یعنی پوری پوری جزا کے طور پر ان کو ذلیل و رسوا کیا گیا، جیسا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو ذلیل و رسوا کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے خلاف ان کے پاس حجت نہیں، کیونکہ مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی حجت بالغہ قائم ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے واضح دلائل اور براہین نازل فرمائے، جو حقائق کو بیان اور مقاصد کو واضح کرتے ہیں۔ پس جس کسی نے ان کی اتباع کی اور ان پر عمل پیرا ہوا وہی ہدایت یافتہ اور کامیاب ہے۔ ﴿ وَلِلْ٘كٰفِرِیْنَ یعنی ان آیات و براہین کا انکار کرنے والوں کے لیے ﴿عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ایسا عذاب ہے جو انھیں ذلیل و رسوا کرے گا، چنانچہ جس طرح انھوں نے آیات الٰہی کے مقابلے میں تکبر کیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ان کو ذلیل و رسوا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

محادَّة الله ورسوله مخالفتُهما ومعصيتُهما، خصوصاً في الأمور الفظيعة؛ كمحادَّة الله ورسوله بالكفر ومعاداة أولياء الله. وقوله: {كُبِتُوا كما كُبِتَ الذين من قبلهم}؛ أي: أذِلُّوا وأهينوا كما فُعِلَ بمن قبلَهم جزاءً وِفاقاً، وليس لهم حجَّةٌ على الله؛ فإنَّ الله قد قامت حجَّته البالغةُ على الخلق، وقد أنزل من الآيات البيِّناتِ والبراهين ما يبيِّنُ الحقائق ويوضِّحُ المقاصدَ؛ فمن اتَّبعها وعمل عليها، فهو من المهتدين الفائزين. {وللكافرين}: بها {عذابٌ مهينٌ}؛ أي: يهينهم ويُذِلُّهم؛ فكما تكبَّروا عن آيات الله؛ أهانهم وأذلَّهم.