تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 95

اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ حَقُّ الۡیَقِیۡنِ ﴿ۚ۹۵﴾
بلا شبہ یقینا یہی ہے وہ سچ جو یقینی ہے۔ En
یہ (داخل کیا جانا یقیناً صحیح یعنی) حق الیقین ہے
En
یہ خبر سراسر حق اور قطعاً یقینی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ هٰؔذَا یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِ بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ هذا}: الذي ذكره الله تعالى من جزاء العباد بأعمالهم خيرها وشرِّها وتفاصيل ذلك {لَهُوَ حقُّ اليقينِ}؛ أي: الذي لا شكَّ فيه ولا مريةَ، بل هو الحقُّ الثابتُ الذي لا بدَّ من وقوعه، وقد أشهد اللهُ عبادَه الأدلَّة القواطع على ذلك، حتى صار عند أولي الألباب كأنَّهم ذائقون له مشاهدونَ لحقيقتِهِ ، فحمدوا الله تعالى على ما خصَّهم من هذه النعمة العظيمة والمنحة الجسيمة.