(آیت 96،95){ اِنَّهٰذَالَهُوَحَقُّالْيَقِيْنِ …: ”حَقُّ“} موصوف ہے جو اپنی صفت {”الْيَقِيْنِ“} کی طرف مضاف ہے، یعنی یہ ایسی ثابت شدہ بات اور ایسا سچ ہے جو یقینی ہے۔ ان دونوں آیات کے لیے دیکھیے سورۂ حاقہ کی آخری دو آیات کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
95۔ یہ سب کچھ یقیناً حق [43] ہے
[43] یعنی جس طرح موت ایک اٹل حقیقت ہے اور تم اس حقیقت کو غیر حقیقت بنانے پر قادر نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح ﴿مُقَّرَبِيْنَ﴾﴿أصْحَابُالْيَمِيْنِ﴾ اور ﴿أصْحَابالشِّمَالِ﴾ کا بتایا ہوا انجام بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اگر تم اسے جھٹلاتے بھی ہو تو اس طرح نہ وہ ٹل سکتی ہے نہ بدل سکتی ہے۔ لہٰذا خواہ مخواہ شبہات پیدا کر کے اپنے آپ کو دھوکا نہ دو۔ بلکہ آنے والے وقت کی تیاری کرو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّهٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَحَقُّالْیَقِیْنِ﴾”بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔“ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ هذا}: الذي ذكره الله تعالى من جزاء العباد بأعمالهم خيرها وشرِّها وتفاصيل ذلك {لَهُوَ حقُّ اليقينِ}؛ أي: الذي لا شكَّ فيه ولا مريةَ، بل هو الحقُّ الثابتُ الذي لا بدَّ من وقوعه، وقد أشهد اللهُ عبادَه الأدلَّة القواطع على ذلك، حتى صار عند أولي الألباب كأنَّهم ذائقون له مشاهدونَ لحقيقتِهِ ، فحمدوا الله تعالى على ما خصَّهم من هذه النعمة العظيمة والمنحة الجسيمة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔