تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 92

وَ اَمَّاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ الضَّآلِّیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾
اور لیکن اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں سے ہوا۔ En
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے
En
لیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ الضَّآلِّیْ٘نَ اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُ٘زُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ۰۰ وَّتَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ یُغَاثُ٘وْا بِمَآءٍ كَالْ٘مُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتْ مُرْتَفَقًا (الکہف:18؍29) تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمَّا إن كان من المكذِّبين الضَّالِّين} أي: الذين كذَّبوا بالحقِّ وضلُّوا عن الهدى، {فنُزُلٌ من حميمٍ. وتصليةُ جَحيم}؛ أي: ضيافتهم يومَ قدومهم على ربِّهم تصليةُ الجحيم التي تحيط بهم وتصِلُ إلى أفئدتهم، وإذا استغاثوا من شدَّة العطش والظمأ؛ {يغاثوا بماءٍ كالمهل يَشْوي الوجوهَ بئس الشرابُ وساءتْ مُرْتَفَقاً}.