تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 7

وَّ کُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَۃً ؕ﴿۷﴾
اور تم تین قسم (کے لوگ) ہو جاؤ گے۔ En
اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ
En
اور تم تین جماعتوں میں ہو جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّؔكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَاَصْحٰؔبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰؔبُ الْمَیْمَنَةِ پس دائیں (ہاتھ)والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے! یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔
﴿ وَاَصْحٰؔبُ الْمَشْـَٔمَةِ اور بائیں (ہاتھ) والے یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصْحٰؔبُ الْمَشْـَٔمَةِ کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكنتم}: أيُّها الخلق، {أزواجاً ثلاثةً}؛ أي: انقسمتم ثلاث فرق بحسب أعمالكم الحسنة والسيئة. ثم فصَّل أحوال الأزواج الثلاثة، فقال: {فأصحابُ الميمنةِ ما أصحابُ الميمنةِ}: تعظيمٌ لشأنهم وتفخيمٌ لأحوالهم، {وأصحابُ المشأمة}؛ أي: الشمال، {ما أصحابُ المشأمة}: تهويلٌ لحالهم.