ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 7

وَّ کُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَۃً ؕ﴿۷﴾
اور تم تین قسم (کے لوگ) ہو جاؤ گے۔ En
اور تم لوگ تین قسم ہوجاؤ
En
اور تم تین جماعتوں میں ہو جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {وَ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً:} یہ تمام لوگوں کو خطاب ہے، کیونکہ قیامت کے دن سب لوگ ان تین قسموں میں تقسیم ہوں گے، سابقون، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال۔ سورت کے آخر میں موت کے وقت بھی لوگوں کی یہی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اس وقت تم تین گروہ [4] بن جاؤ گے
[4] سابقہ آیات میں قیامت کے برپا ہونے یا نفخہ صور اول کا منظر پیش کیا گیا ہے اور اس آیت میں نفحہ صور ثانی یا مردوں کے قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے اور میدان محشر میں اکٹھا ہو جانے کے مابعد کا۔ اس وقت تمام لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک اہل دوزخ، دوسرے اہل جنت۔ اہل جنت کی پھر دو قسمیں ہوں گی۔ ایک مقربین کا گروہ، دوسرا عام صالحین کا۔ اس طرح کل تین قسم کے گروہ بن جائیں گے۔ جیسا کہ آگے ان کی تفصیل آرہی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّؔكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَاَصْحٰؔبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰؔبُ الْمَیْمَنَةِ پس دائیں (ہاتھ)والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے! یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔
﴿ وَاَصْحٰؔبُ الْمَشْـَٔمَةِ اور بائیں (ہاتھ) والے یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصْحٰؔبُ الْمَشْـَٔمَةِ کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكنتم}: أيُّها الخلق، {أزواجاً ثلاثةً}؛ أي: انقسمتم ثلاث فرق بحسب أعمالكم الحسنة والسيئة. ثم فصَّل أحوال الأزواج الثلاثة، فقال: {فأصحابُ الميمنةِ ما أصحابُ الميمنةِ}: تعظيمٌ لشأنهم وتفخيمٌ لأحوالهم، {وأصحابُ المشأمة}؛ أي: الشمال، {ما أصحابُ المشأمة}: تهويلٌ لحالهم.