تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 41

وَ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ﴿ؕ۴۱﴾
اوربائیں ہاتھ والے ،کیا (ہی برے) ہیں بائیں ہاتھ والے۔ En
اور بائیں ہاتھ والے (افسوس) بائیں ہاتھ والے کیا (ہی عذاب میں) ہیں
En
اور بائیں ہاتھ والے کیا ہیں بائیں ہاتھ والے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِیْ سَمُوْمٍ باد سموم میں ہوں گے۔ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِیْمٍ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَ٘ارِدٍ وَّلَا كَرِیْمٍ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

المرادُ بأصحاب الشمال هم أصحابُ النارِ والأعمال المشؤومة، فذكر الله لهم من العقاب ما هم حقيقون به، فأخبر أنَّهم {في سَموم}؛ أي: ريح حارَّة من حرِّ نار جهنَّم؛ تأخذ بأنفاسهم، وتقلِقُهم أشدَّ القلق، {وحميم}؛ أي: ماءٍ حارٍّ يقطِّع أمعاءهم، {وظِلٍّ من يَحْموم}؛ أي: لهب نارٍ يختلط - بدخان، {لا باردٍ ولا كريم}؛ أي: لا بردَ فيه ولا كرم. والمقصودُ أنَّ هناك الهمَّ والغمَّ والحزنَ والشرَّ الذي لا خير فيه؛ لأنَّ نفي الضدِّ إثباتٌ لضدِّه.