تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 4

اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا ۙ﴿۴﴾
جب زمین ہلائی جائے گی، سخت ہلایا جانا۔ En
جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے
En
جبکہ زمین زلزلہ کے ساتھ ہلا دی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتْ هَبَآءًؔ مُّنْۢـبَثًّا پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذا رُجَّتِ الأرضُ رجًّا}؛ أي: حُركت واضطربتْ، {وبُسَّتِ الجبالُ بَسًّا}؛ أي: فتت، {فكانت هباءً منبثًّا}: فأصبحت ليس عليها جبلٌ ولا مَعْلمٌ، قاعاً صفصفاً، لا ترى فيها عوجاً ولا أمتاً.