تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 25

لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا تَاۡثِیۡمًا ﴿ۙ۲۵﴾
وہ اس میں نہ بے ہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات۔ En
وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ
En
نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناه کی بات En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا يسمعون فيها لغواً ولا تأثيماً}؛ أي: لا يسمعون في جنَّاتِ النعيم كلاماً يُلغي، ولا يكون فيه فائدةً ولا كلاماً يؤثم صاحبه {إلاَّ قيلاً سلاماً سلاماً}؛ أي: إلاَّ كلاماً طيباً، وذلك لأنَّها دار الطيبين، ولا يكون فيها إلاَّ كلُّ طيبٍ، وهذا دليلٌ على حسن أدب أهل الجنَّة في خطابهم فيما بينهم، وأنه أطيبُ كلام وأسرُّه للقلوب وأسلمه من كلِّ لغوٍ وإثم، نسأل الله من فضله.