(آیت 26،25) {لَايَسْمَعُوْنَفِيْهَالَغْوًاوَّلَاتَاْثِيْمًا …:”تَاْثِيْمًا“”إِثْمٌ“} سے باب تفعیل کا مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، گناہ گار کرنے والی بات۔ {”قِيْلٌ“} اور {”قَوْلٌ“} دونوں {”قَالَيَقُوْلُ“} کے مصدر ہیں۔ {”سَلٰمًاسَلٰمًا“”قِيْلًا“} سے بدل ہے یا اس کا مقولہ ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مریم (۶۲) اور سورۂ نبا (۳۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ وہاں وہ نہ تو کوئی بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ ہی [13] کوئی گناہ کی بات
[13] یعنی وہاں نہ کوئی دوسرے کی غیبت کرے گا، نہ چغلی کھائے گا، نہ بہتان لگائے گا، نہ جھوٹ بولے گا نہ مکر و فریب اور ہیرا پھیری کی باتیں کرے گا، نہ گالی گلوچ ہو گا اور نہ طنز اور ایک دوسرے کو تمسخر اور تضحیک گویا کوئی شخص ایسی بات نہ کرے گا جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچ سکتی ہو اور نہ اہل جنت وہاں بے ہودہ اور بے کار باتیں کریں گے جس کا نتیجہ کچھ نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا يسمعون فيها لغواً ولا تأثيماً}؛ أي: لا يسمعون في جنَّاتِ النعيم كلاماً يُلغي، ولا يكون فيه فائدةً ولا كلاماً يؤثم صاحبه {إلاَّ قيلاً سلاماً سلاماً}؛ أي: إلاَّ كلاماً طيباً، وذلك لأنَّها دار الطيبين، ولا يكون فيها إلاَّ كلُّ طيبٍ، وهذا دليلٌ على حسن أدب أهل الجنَّة في خطابهم فيما بينهم، وأنه أطيبُ كلام وأسرُّه للقلوب وأسلمه من كلِّ لغوٍ وإثم، نسأل الله من فضله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔