تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمْثَالِاللُّؤْلُؤِؔالْمَكْنُوْنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وحورٌ عينٌ كأمثال اللؤلؤ المكنون}؛ أي: ولهم حور عين، والحوراء: التي في عينها كحلٌ وملاحةٌ وحسنٌ وبهاءٌ، والعِينُ حسانُ الأعين ضخامها ، وحسنُ عين الأنثى ، من أعظم الأدلَّة على حسنها وجمالها. {كأمثال اللُّؤلؤ المكنونِ}؛ أي: كأنَّهن اللؤلؤ [الأبيض] الرطبُ الصافي البهيُّ المستور عن الأعين والريح والشمس، الذي يكون لونُه من أحسن الألوان، الذي لا عيب فيه بوجهٍ من الوجوه؛ فكذلك الحور العين، لا عيبَ فيهنَّ بوجهٍ، بل هنَّ كاملاتُ الأوصاف جميلاتُ النُّعوت؛ فكلُّ ما تأمَّلته منها؛ لم تجدْ فيه إلاَّ ما يسرُّ القلب ويروق الناظر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔