(آیت 22) {وَحُوْرٌعِيْنٌ: ”حُوْرٌعِيْنٌ“} مرفوع ہے، اس کا عطف {”وِلْدَانٌمُّخَلَّدُوْنَ“} پر ہے، مطلب یہ ہے کہ شراب کے جام، پھل اور گوشت وغیرہ لے کر {”وِلْدَانٌمُّخَلَّدُوْنَ“} ان پر چکر لگا رہے ہوں گے اور” حور عین “بھی۔ بعض نے فرمایا کہ یہ مبتدا ہے اور خبر اس کی محذوف ہے: {”أَيْوَلَهُمْفِيْهَاحُوْرٌعِيْنٌ“} یعنی ان کے لیے اس میں حوریں ہوں گی۔ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ دخان (۵۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حور العین ٭٭
«حور» کی دوسری قرأت «ر» کے زیر سے بھی ہے۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لیے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے جیسے «وَامْسَحُوْابِرُءُوْسِكُمْوَاَرْجُلَكُمْاِلَىالْكَعْبَيْنِ»[5-المآئدہ:6] میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ «عٰلِيَهُمْثِيَابُسُـنْدُسٍخُضْرٌوَّاِسْتَبْرَقٌ»[76-الإنسان:21] ہیں۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لیے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ «وَاللهُاَعْلَمُ» یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ الصافات میں ہے «كَاَنَّهُنَّبَيْضٌمَّكْنُوْنٌ»[37-الصافات:49] سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بے معنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے، حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا، جیسے اور آیت میں ہے «لَّاتَسْمَعُفِيْهَالَاغِيَةً»[88-الغاشية:11] فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے، نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا «تَحِيَّتُهُمْفِيْهَاسَلٰمٌ»[14-ابراھیم:23] ان کا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہو گا۔ ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمْثَالِاللُّؤْلُؤِؔالْمَكْنُوْنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وحورٌ عينٌ كأمثال اللؤلؤ المكنون}؛ أي: ولهم حور عين، والحوراء: التي في عينها كحلٌ وملاحةٌ وحسنٌ وبهاءٌ، والعِينُ حسانُ الأعين ضخامها ، وحسنُ عين الأنثى ، من أعظم الأدلَّة على حسنها وجمالها. {كأمثال اللُّؤلؤ المكنونِ}؛ أي: كأنَّهن اللؤلؤ [الأبيض] الرطبُ الصافي البهيُّ المستور عن الأعين والريح والشمس، الذي يكون لونُه من أحسن الألوان، الذي لا عيب فيه بوجهٍ من الوجوه؛ فكذلك الحور العين، لا عيبَ فيهنَّ بوجهٍ، بل هنَّ كاملاتُ الأوصاف جميلاتُ النُّعوت؛ فكلُّ ما تأمَّلته منها؛ لم تجدْ فيه إلاَّ ما يسرُّ القلب ويروق الناظر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔