تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 15

عَلٰی سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾
سونے اور جواہر سے بُنے ہوئے تختوں پر (آرام کر رہے ہوں گے)۔ En
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
En
یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِیْ٘نَ آمنے سامنے۔ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{على سررٍ موضونةٍ}؛ أي: مرمولةٍ بالذهب والفضة واللؤلؤ والجوهر وغير ذلك من الحليِّ والزينة التي لا يعلمها إلاَّ الله تعالى، {متكئين عليها}؛ أي: على تلك السرر، جلوس تمكُّن وطمأنينةٍ وراحةٍ واستقرارٍ، {متقابلين}: وجه كلٍّ منهم إلى وجه صاحبه؛ من صفاء قلوبهم وتقابلها بالمحبة وحسن أدبهم.