(آیت 15) {عَلٰىسُرُرٍمَّوْضُوْنَةٍ: ”سُرُرٍ“”سَرِيْرٌ“} کی جمع ہے،جس کا معنی تخت بھی ہے اور چارپائی بھی اور {”وَضَنَيَضِنُوَضْنًا“} (ض) بُننا، مضبوطی اور باریکی سے بننا، سونے اور جواہر کے ساتھ بننا۔ طبری نے مجاہد کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر فرمایا ہے: {”مَرْمُوْلَةٌبِالذَّهَبِ،أَيْمَنْسُوْجَةٌبِالذَّهَبِ“} ”یعنی سونے کے تاروں کے ساتھ بنے ہوئے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ مرصع [9] تختوں پر
[9]﴿مَوْضُوْنَةٍ ﴾﴿وَضَنٌ﴾ کے اصل معنی زرہ بافی کے ہیں اور استعارۃً کسی چیز کو مضبوطی کے ساتھ بننے پر بولا جاتا ہے اور ﴿مَوْضُوْنٌ﴾ یا ﴿مَوْضُوْنَةٌ﴾ یعنی باریک بنی ہوئی یا سونے کے تاروں سے بنی ہوئی چیز۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰىسُرُرٍمَّوْضُوْنَةٍ﴾”سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔“ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِیْ٘نَ﴾”آمنے سامنے۔“ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{على سررٍ موضونةٍ}؛ أي: مرمولةٍ بالذهب والفضة واللؤلؤ والجوهر وغير ذلك من الحليِّ والزينة التي لا يعلمها إلاَّ الله تعالى، {متكئين عليها}؛ أي: على تلك السرر، جلوس تمكُّن وطمأنينةٍ وراحةٍ واستقرارٍ، {متقابلين}: وجه كلٍّ منهم إلى وجه صاحبه؛ من صفاء قلوبهم وتقابلها بالمحبة وحسن أدبهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔