تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الواقعة (56) — آیت 10

وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿ۚۙ۱۰﴾
اور جو پہل کرنے والے ہیں، وہی آگے بڑھنے والے ہیں۔ En
اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں
En
اور جو آگے والے ہیں وه تو آگے والے ہی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰؔبِقُوْنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الْ٘مُقَرَّبُوْنَ۠ اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔ یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔ یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والسابقون السابقون. أولئك المقرَّبون}؛ أي: السابقون في الدنيا إلى الخيرات هم السابقون في الآخرة لدخول الجنات، أولئك الذين هذا وصفهم المقرَّبون عند الله {في جنات النعيم}: في أعلى علِّيين، في المنازل العاليات التي لا منزلة فوقها، وهؤلاء المذكورون {ثُلَّةٌ من الأوَّلين}؛ أي: جماعة كثيرون من المتقدِّمين من هذه الأمة وغيرهم. {وقليلٌ من الآخِرينَ}: وهذا يدلُّ على فضل صدر هذه الأمَّة في الجملة على متأخِّريها ؛ لكون المقرَّبين من الأولين أكثر من المتأخرين، والمقرَّبون هم خواصُّ الخلق.