ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 10

وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿ۚۙ۱۰﴾
اور جو پہل کرنے والے ہیں، وہی آگے بڑھنے والے ہیں۔ En
اور جو آگے بڑھنے والے ہیں (ان کا کیا کہنا) وہ آگے ہی بڑھنے والے ہیں
En
اور جو آگے والے ہیں وه تو آگے والے ہی ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) {وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ پہلے { السّٰبِقُوْنَ } سے مراد عمل میں سبقت والے اور دوسرے { السّٰبِقُوْنَ } سے مراد درجے میں سبقت لینے والے ہیں۔ یعنی جو لوگ ایمان لانے میں اور اعمال صالحہ میں دوسروں سے پہل کرنے والے اور آگے بڑھنے والے ہیں وہ جنت کے داخلے میں بھی دوسروں سے پہلے اور اس کے مراتب میں دوسروں سے آگے ہوں گے۔ دوسرا مطلب یہ کہ دونوں { السّٰبِقُوْنَ } سے مراد ایک ہی ہے اور مقصود ان کی شان کا بیان ہے، جیسے کہا جاتا ہے: {أَنْتَ أَنْتَ} کہ تم، تم ہی ہو، تمھارا کیا کہنا، کوئی اور تمھارے جیسا نہیں اور جیسے شاعر نے کہا ہے:
{أَنَا أَبُو النَّجْمِ
وَ شِعْرِيْ شِعْرِيْ}
میں ابو النجم ہوں اور میرا شعر میرا ہی شعر ہے۔
یعنی میرے شعر کی کیا بات ہے۔ یعنی سابقون سابقون ہی ہیں، کوئی اور ان کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 ان سے مراد خواص مومنین ہیں، یہ تیسری قسم ہے جو ایمان قبول کرنے میں سبقت کرنے اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو قرب خاص سے نوازے گا، یہ ترکیب ایسے ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، تو تو ہے اور زید زید، اس میں گویا زید کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ اور (تیسرے) سبقت کرنے والے تو بہرحال سبقت کرنے والے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰؔبِقُوْنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الْ٘مُقَرَّبُوْنَ۠ اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔ یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔ یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والسابقون السابقون. أولئك المقرَّبون}؛ أي: السابقون في الدنيا إلى الخيرات هم السابقون في الآخرة لدخول الجنات، أولئك الذين هذا وصفهم المقرَّبون عند الله {في جنات النعيم}: في أعلى علِّيين، في المنازل العاليات التي لا منزلة فوقها، وهؤلاء المذكورون {ثُلَّةٌ من الأوَّلين}؛ أي: جماعة كثيرون من المتقدِّمين من هذه الأمة وغيرهم. {وقليلٌ من الآخِرينَ}: وهذا يدلُّ على فضل صدر هذه الأمَّة في الجملة على متأخِّريها ؛ لكون المقرَّبين من الأولين أكثر من المتأخرين، والمقرَّبون هم خواصُّ الخلق.