تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 48

ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ ﴿ۚ۴۸﴾
دونوں بہت شاخوں والے ہیں۔ En
ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)
En
(دونوں جنتیں) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍ ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔ (﴿اَفْنَانٍ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن أوصاف تلك الجنتين أنَّهما {ذواتا أفنانٍ}؛ أي: فيهما من ألوان النَّعيم المتنوِّعة؛ نعيم الظاهر والباطن؛ ما لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ ولا خطرَ على قلب بشرٍ؛ أي: فيهما الأشجار الكثيرة الزاهرة، ذوات الغصون الناعمة، التي فيها الثمار اليانعة الكثيرة اللَّذيذة.