(آیت 48) {ذَوَاتَاۤاَفْنَانٍ: ”اَفْنَانٍ“”فَنَنٌ“} کی جمع ہے، سیدھی لمبی شاخ اور {”فَنٌّ“} کی جمع بھی ہے جس کا معنی نوع ہے۔ بہت شاخوں والے سے مراد شاخوں، پتوں اور پھلوں کی کثرت ہے، ورنہ باغوں کی ٹہنیاں تو ہوتی ہی ہیں اور اگر {”اَفْنَانٍ“”فَنٌّ“} کی جمع ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں باغ بہت سی قسموں کے پودوں اور درختوں والے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 یہ اشارہ ہے اس طرف کہ اس میں سایہ گنجان اور گہرا ہوگا، نیز پھلوں کی کثرت ہوگی، کیونکہ کہتے ہیں ہر شاخ ٹہنی پھلوں سے لدی ہوگی (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ وہ دونوں باغ لمبی لمبی اور بڑی بڑی شاخوں [32] والے ہوں گے
[32]﴿افنان﴾﴿فن﴾ کی جمع ہے یعنی بہت بڑا اور لمبا ٹہنا یعنی ان دو باغوں کے جتنے درخت ہوں گے ان سب کے دو بڑے بڑے ٹہنے ہوں گے۔ پھر ان ٹہنوں کی چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں نکلیں گی۔ اس آیت میں اللہ کی اس قدرت کا اظہار ہے کہ ان باغوں کے درختوں کی نشو و نما میں ایک دوسرے سے پوری طرح یکسانیت اور ہم آہنگی ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤاَفْنَانٍ﴾”ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔“ (﴿اَفْنَانٍ﴾فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن أوصاف تلك الجنتين أنَّهما {ذواتا أفنانٍ}؛ أي: فيهما من ألوان النَّعيم المتنوِّعة؛ نعيم الظاهر والباطن؛ ما لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ ولا خطرَ على قلب بشرٍ؛ أي: فيهما الأشجار الكثيرة الزاهرة، ذوات الغصون الناعمة، التي فيها الثمار اليانعة الكثيرة اللَّذيذة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔