تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہاں بحرین سے مراد ہے: میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں مل جاتے ہیں۔ (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے، پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنا رکھا ہے، ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے۔لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں، کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے، اس میں وہیل، مچھلیاں، موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشتیوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المراد بالبحرين: البحر العذب والبحر المالح؛ فهما يلتقيان [كلاهما]، فيصبُّ العذب في البحر المالح ويختلطان ويمتزجان، ولكنَّ الله تعالى جعل بينهما برزخاً من الأرض، حتى لا يبغي أحدهما على الآخر، ويحصُلَ النفع بكلٍّ منهما؛ فالعذب منه يشربون وتشرب أشجارهم وزروعهم وحروثهم، والملح به يطيبُ الهواء ويتولَّد الحوت والسمك واللؤلؤ والمرجان، ويكون مستقرًّا مسخراً للسفن والمراكب، ولهذا قال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔