ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 19

مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ ﴿ۙ۱۹﴾
اس نے دو سمندروں کو ملادیا ، جو اس حال میں مل رہے ہیں کہ۔ En
اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں
En
اس نے دو دریا جاری کر دیے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19تا21) {مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان (۵۳)کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اس نے دو دریا رواں کئے جو باہم ملتے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہاں بحرین سے مراد ہے: میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں مل جاتے ہیں۔ (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے، پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنا رکھا ہے، ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے۔لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں، کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے، اس میں وہیل، مچھلیاں، موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشتیوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

المراد بالبحرين: البحر العذب والبحر المالح؛ فهما يلتقيان [كلاهما]، فيصبُّ العذب في البحر المالح ويختلطان ويمتزجان، ولكنَّ الله تعالى جعل بينهما برزخاً من الأرض، حتى لا يبغي أحدهما على الآخر، ويحصُلَ النفع بكلٍّ منهما؛ فالعذب منه يشربون وتشرب أشجارهم وزروعهم وحروثهم، والملح به يطيبُ الهواء ويتولَّد الحوت والسمك واللؤلؤ والمرجان، ويكون مستقرًّا مسخراً للسفن والمراكب، ولهذا قال: