تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَقَدْاَهْلَكْنَاۤاَشْیَاعَكُمْ﴾”اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔“ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلْمِنْمُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولقد أهْلَكْنا أشياعَكم}: من الأمم السابقين، الذين عملوا كما عملتُم وكذَّبوا كما كذَّبتم، {فهل من مُدَّكِرٍ}؛ أي: متذكِّر يعلم أن سنَّة الله في الأولين والآخرين واحدةٌ، وأن حكمتَه كما اقتضت إهلاك أولئك الأشرار فإنَّ هؤلاء مثلهم، ولا فرق بين الفريقين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔