تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 43

اَکُفَّارُکُمۡ خَیۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓئِکُمۡ اَمۡ لَکُمۡ بَرَآءَۃٌ فِی الزُّبُرِ ﴿ۚ۴۳﴾
کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں، یا تمھارے لیے (پہلی) کتابوں میں کوئی چھٹکارا ہے؟ En
(اے اہل عرب) کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (پہلی) کتابوں میں کوئی فارغ خطی لکھ دی گئی ہے
En
(اے قریشیو!) کیا تمہارے کافر ان کافروں سے کچھ بہتر ہیں؟ یا تمہارے لیے اگلی کتابوں میں چھٹکارا لکھا ہوا ہے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓىِٕكُمْ (اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں) سےبہتر ہیں؟ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔
﴿ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِ یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔
یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والمراد من ذِكر هذه القصص تحذير الناس والمكذِّبين لمحمد - صلى الله عليه وسلم -، ولهذا قال: {أكفَّارُكم خيرٌ من أولئكم}؛ أي: أهؤلاء الذين كذَّبوا أفضل الرسل خيرٌ من أولئك المكذِّبين الذين ذكر الله هلاكَهم وما جرى عليهم؟ فإنْ كانوا خيراً منهم؛ أمكن أن يَنْجوا من العذاب ولم يصبهم ما أصاب أولئك الأشرار، وليس الأمر كذلك؛ فإنَّهم إن لم يكونوا شرًّا منهم؛ فليسوا بخير منهم. {أم لكم بَرَآءَةٌ في الزُّبُرِ}؛ أي: أم أعطاكم الله عهداً وميثاقاً في الكتب التي أنزلها على الأنبياء، فتعتقدون حينئذٍ أنَّكم الناجون بأخبار الله ووعده؟! وهذا غير واقع، بل غير ممكنٍ عقلاً وشرعاً أن تُكتب براءتهم في الكُتب الإلهية المتضمِّنة للعدل والحكمة؛ فليس من الحكمة نجاةُ أمثال هؤلاء المعاندين المكذِّبين لأفضل الرسل وأكرمهم على الله.