تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًامِّؔنَّاوَاحِدًانَّتَّبِعُهٗۤ﴾”بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟“ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ٘اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّ٘فِیْضَلٰلٍوَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فكذَّبوه واستكبروا عليه وقالوا كبراً وتيهاً: {أبشراً مِنَّا واحداً نَتَّبِعُهُ}؛ أي: كيف نتَّبع بشراً لا مَلَكاً، منَّا لا من غيرنا ممَّن هو أكبر عند الناس منَّا، ومع ذلك؛ فهو شخصٌ واحدٌ. {إنَّا إذاً}؛ أي: إن اتَّبعناه وهو في هذه الحالة {لفي ضلال وسُعُرٍ}؛ أي: [إنَّا] لضالُّون أشقياء. وهذا الكلام من ضلالهم وشقائهم؛ فإنهم أنِفوا أن يَتَّبِعوا رسولاً من البشر، ولم يأنفوا أن يكونوا عابدين للشجر والحجر والصُّوَر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔