تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿تَنْزِعُالنَّاسَ﴾ وہ اپنے شدت کی وجہ سے لوگوں کی بیخ کنی کر رہی تھی، انھیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پر دے مارتی تھی اور یوں انھیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی ﴿كَاَنَّهُمْاَعْجَازُنَخْلٍمُّنْقَ٘عِرٍ﴾”گویا کہ وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔“ یعنی ان کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ایسے دکھائی دے رہی تھیں جیسے گری ہوئی کھجور کے تنے جنھیں سخت ہوا نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو اور وہ زمین پر گری پڑی ہوں، جب مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے تو وہ اس کے ہاں کتنی حقیر ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{تنزِعُ الناسَ}: من شدَّتها فترفعهم إلى جوِّ السماء، ثم تدمغهم بالأرض، فتهلكهم، فيصبحون {كأنَّهم أعجازُ نخل مُنقَعِرٍ}؛ أي: كأنَّ جثثهم بعد هلاكهم مثل جذوع النخل الخاوي الذي اقتلعتْه الريح فسقط على الأرض؛ فما أهون الخلق على الله إذا عَصَوْا أمرَه!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔