تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 2

وَ اِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَ یَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ ﴿۲﴾
اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ) ایک جادو ہے جو گزر جانے والا ہے۔ En
اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے
En
یہ اگر کوئی معجزه دیکھتے ہیں تو منھ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ان کی طرف سے صرف اسی ایک معجزے کا انکار نہیں بلکہ ان کے پاس جو بھی معجزہ آتا ہے تو یہ اس کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا اگر وہ (مشرک) کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں۔ پس حق اور ہدایت کی اتباع کرنا ان کا مقصد نہیں، ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا ليس إنكاراً منهم لهذه الآية وحدَها، بل كلُّ آية تأتيهم؛ فإنَّهم مستعدُّون لمقابلتها بالتكذيب والردِّ لها، ولهذا قال: {وإن يَرَوا آيةً يعرِضوا}: فلم يعدْ الضمير على انشقاق القمر، [فلم يقل: وإن يروها]، بل قال: {وإن يَرَوا آيةً يعرضوا}؛ فليس قصدهم اتِّباع الحق والهدى، وإنَّما مقصودهم اتِّباع الهوى.