تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 1

اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الۡقَمَرُ ﴿۱﴾
قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ En
قیامت قریب آ پہنچی اور چاند شق ہوگیا
En
قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی، یعنی قیامت قریب آ گئی، اس کی آمد کا وقت ہو گیا، بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جا رہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں، ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہیں۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے۔ تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا، پس چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور ایک ٹکڑا جبل قعیقعان پر چلا گیا۔ مشرکین اس عظیم معجزے کا مشاہد ہ کر رہے تھے جو عالم علوی میں وقوع پذیر ہوا۔ جس میں مخلوق ملمع سازی کی قدرت رکھتی ہے نہ تخیل کی شعبدہ بازی کر سکتی ہے، چنانچہ انھوں نے ایک ایسے معجزے کا مشاہدہ کیا جو اس سے قبل انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا بلکہ انھوں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین کے ہاتھوں پر اس جیسا معجزہ ظاہر ہوا ہو۔ وہ اس معجزے کو دیکھ کر مغلوب ہو گئے مگر ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا نہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی چاہی۔
انھوں نے اپنی بہتان طرازی اور سرکشی میں پناہ لی اور کہنے لگے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جادو کر دیا مگر اس کی علامت یہ ہے کہ تم کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سفر پر سے تمھارے پاس آیا ہے اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم پر جادو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس شخص پر جادو نہیں کر سکتے جس نے تمھاری طرح (چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا)مشاہدہ نہیں کیا، چنانچہ انھوں نے ہر اس شخص سے شق قمر کے بارے میں پوچھا جو سفر پر سے آئے، انھوں نے بھی شق قمر کے وقوع کے بارے میں خبر دی۔ اس پر انھوں نے کہا ﴿ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر بھی جادو کر دیا اور دوسروں پر بھی۔ یہ ایسا بہتان ہے جو صرف انھی لوگوں میں رواج پا سکتا ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ بے قوف اور ہدایت اور عقل کے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّ الساعة ـ وهي القيامة ـ اقتربت، وآن أوانُها، وحان وقتُ مجيئها، ومع هذا ؛ فهؤلاء المكذِّبون لم يزالوا مكذِّبين بها غير مستعدين لنزولها، ويريهم الله من الآيات العظيمة الدالَّة على وقوعها ما يؤمنُ على مثله البشرُ؛ فمن أعظم الآياتِ الدالَّة على صحَّة ما جاء به محمد بن عبد الله - صلى الله عليه وسلم - أنَّه لما طلب منه المكذِّبون أن يُرِيَهم من خوارق العادات ما يدلُّ على صحَّة ما جاء به وصدقه ؛ أشار - صلى الله عليه وسلم - إلى القمر، فانشقَّ بإذن الله فلقتين؛ فلقةً على جبل أبي قُبيس، وفلقةً على جبل قعيقعان، والمشركون وغيرهم يشاهدون هذه الآية العظيمة الكائنة في العالم العلويِّ، التي لا يقدر الخلقُ على التمويه بها والتخييل، فشاهدوا أمراً ما رأوا مثلَه، بل ولم يسمعوا أنَّه جرى لأحدٍ من المرسلين قبلَه نظيره، فانبهروا لذلك، ولم يدخُل الإيمانُ في قلوبهم، ولم يردِ الله بهم خيراً، ففزعوا إلى بهتهم وطغيانهم، وقالوا: سحرنا محمدٌ! ولكنَّ علامة ذلك أنكم تسألون من وَرَدَ عليكم من السفر؛ فإنَّه إن قدر على سحركم؛ لم يقدِرْ أن يسحرَ مَن ليس مشاهداً مثلكم! فسألوا كلَّ من قدم، فأخبروهم بوقوع ذلك، فقالوا: {سحرٌ مستمرٌّ}! سحرنا محمدٌ وسحر غيرنا!! وهذا من البَهْتِ الذي لا يروج إلاَّ على أسفه الخلق وأضلِّهم عن الهدى والعقل.