تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَفَجَّرْنَاالْاَرْضَعُیُوْنًا﴾”اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔“ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالْ٘تَ٘قَىالْمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤىاَمْرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدْقُدِرَ﴾”بے شک طے تھا “ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وفجَّرْنا الأرض عُيوناً}: فجعلتِ السماءُ ينزل منها من الماء شيءٌ خارقٌ للعادة، وتفجَّرت الأرضُ كلُّها، حتى التنُّور الذي لم تَجْرِ العادةُ بوجود الماء فيه، فضلاً عن كونِهِ منبعاً للماء؛ لأنَّه موضع النار، {فالتقى الماء}؛ أي: ماء السماء والأرض، {على أمرٍ}: من الله له بذلك، {قد قُدِرَ}؛ أي: قد كتبه الله في الأزل وقضاه عقوبةً لهؤلاء الظالمين الطاغين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔