تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 10

فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ ﴿۱۰﴾
تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں، سو تو بدلہ لے۔ En
تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الٓہا) میں (ان کے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلہ لے
En
پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تب اس موقع پر نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ بے شک میں کمزور ہوں۔ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانْتَصِرْ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْ٘كٰفِرِیْنَ دَیَّارًؔا (نوح:71؍26) اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فعند ذلك دعا نوحٌ ربَّه، فقال: {إنِّي مغلوبٌ}: لا قدرةَ لي على الانتصار منهم؛ لأنه لم يؤمن من قومه إلاَّ القليل النادر، ولا قدرة لهم على مقاومة قومهم، {فانتَصِرْ}: اللهمَّ لي منهم، وقال في الآية الأخرى: {ربِّ لا تَذَرْ على الأرضِ من الكافرين دَيَّاراً ... } الآيات.