تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
تب اس موقع پر نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّیْمَغْلُوْبٌ﴾”بے شک میں کمزور ہوں۔“ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانْتَصِرْ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی: ﴿ رَّبِّلَاتَذَرْعَلَىالْاَرْضِمِنَالْ٘كٰفِرِیْنَدَیَّارًؔا﴾ (نوح:71؍26) ”اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فعند ذلك دعا نوحٌ ربَّه، فقال: {إنِّي مغلوبٌ}: لا قدرةَ لي على الانتصار منهم؛ لأنه لم يؤمن من قومه إلاَّ القليل النادر، ولا قدرة لهم على مقاومة قومهم، {فانتَصِرْ}: اللهمَّ لي منهم، وقال في الآية الأخرى: {ربِّ لا تَذَرْ على الأرضِ من الكافرين دَيَّاراً ... } الآيات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔