(آیت 10) {فَدَعَارَبَّهٗۤاَنِّيْمَغْلُوْبٌفَانْتَصِرْ:} نوح علیہ السلام نے یہ دعا اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں اطلاع دی کہ اب تیری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ نوح (27،26) کی تفسیر۔ {”اِنْتَصَرَيَنْتَصِرُ“} انتقام لینا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ چنانچہ انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ: ”میں مغلوب [11] ہو چکا، اب تو ان سے بدلہ لے“
[11] سینکڑوں برس اپنی قوم پر مغز کھپانے اور ان کی طرف سے ایذائیں اور جھڑکیاں برداشت کرنے کے بعد آپ نے اس وقت دعا کی کہ جب کسی شخص کے مزید ایمان لانے سے آپ قطعاً مایوس ہو گئے تھے۔ اور دعا یہ کی تھی کہ ہم پر جو ظلم و ستم یہ لوگ ڈھا چکے ہیں ہماری مدد فرما کر ان سے بدلہ لے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دیرینہ انداز کفر ٭٭
یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوالَئِنلَّمْتَنتَهِيَانُوحُلَتَكُونَنَّمِنَالْمَرْجُومِينَ»[26-الشعراء:116] ’ اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے ‘، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
تب اس موقع پر نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّیْمَغْلُوْبٌ﴾”بے شک میں کمزور ہوں۔“ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانْتَصِرْ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی: ﴿ رَّبِّلَاتَذَرْعَلَىالْاَرْضِمِنَالْ٘كٰفِرِیْنَدَیَّارًؔا﴾ (نوح:71؍26) ”اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فعند ذلك دعا نوحٌ ربَّه، فقال: {إنِّي مغلوبٌ}: لا قدرةَ لي على الانتصار منهم؛ لأنه لم يؤمن من قومه إلاَّ القليل النادر، ولا قدرة لهم على مقاومة قومهم، {فانتَصِرْ}: اللهمَّ لي منهم، وقال في الآية الأخرى: {ربِّ لا تَذَرْ على الأرضِ من الكافرين دَيَّاراً ... } الآيات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔