تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 51

وَ ثَمُوۡدَا۠ فَمَاۤ اَبۡقٰی ﴿ۙ۵۱﴾
اور ثمود کو، پس (کسی کو) باقی نہیں چھوڑا۔ En
اور ثمود کو بھی۔ غرض کسی کو باقی نہ چھوڑا
En
اور ﺛمود کو بھی (جن میں سے) ایک کو بھی باقی نہ رکھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَثَمُوْدَاۡؔ اور ثمود کو (ہلاک کیا۔) یہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کو ثمود کی طرف مبعوث کیا مگر انھوں نے آپ کو جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ نے معجزے کے طور پر ان کی طرف اونٹنی بھیجی، مگر انھوں نے اس کو ہلاک کر ڈالا اور صالح کو جھٹلایا، پس (اس کی پاداش میں) اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا ﴿ فَمَاۤ اَبْقٰى اور ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ رکھا بلکہ ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وثمودَ}: قومُ صالح عليه السلام؛ أرسله الله إلى ثمود، فكذَّبوه، فبعث الله إليهم الناقة آية، فعقروها وكذَّبوه، فأهلكهم الله [تعالى]، {فما أبقى}: منهم أحداً، بل أبادهم عن آخرهم.