تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 42

وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾
اور یہ کہ تیرے رب ہی کی طرف آخر پہنچنا ہے۔ En
اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے
En
اور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْ٘مُنْ٘تَهٰى یعنی تمام معاملات کو تیرے رب کے پاس ہی پہنچنا ہے۔ تمام اشیاء اور تمام مخلوقات، دوبارہ زندہ ہو کر اسی کی طرف لوٹیں گی۔ ہر حال میں منتہیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ علم کی انتہا اللہ تعالیٰ پر ہے، حکم، رحمت اور تمام کمالات کی انتہا اللہ تعالیٰ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {وأنَّ إلى ربِّك المنتهى}؛ أي: إليه تنتهي الأمور، وإليه تصير الأشياء والخلائقُ بالبعث والنُّشور، وإلى الله المنتهى في كلِّ حال؛ فإليه ينتهي العلم والحكم والرحمة وسائر الكمالات.