تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 31

قُلۡ تَرَبَّصُوۡا فَاِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِیۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾
کہہ دے انتظار کرو، پس بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔ En
کہہ دو کہ انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
En
کہہ دیجئے! تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوْا یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل}: لهم جواباً لهذا الكلام السخيف: {تربَّصوا}؛ أي: انتظروا بي الموت، {فإنِّي معكم من المتربِّصين}: نتربَّص بكم أن يصيبكم الله بعذابٍ من عنده، أو بأيدينا.