تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور کبھی کبھی ﴿ یَقُوْلُوْنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾”شاعر ہے۔“ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَاعَلَّمْنٰهُالشِّ٘عْرَوَمَایَنْۢبَغِیْلَهٗ﴾ (یٰسین:36؍69) ”ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔“﴿نَّتَرَبَّصُبِهٖرَیْبَالْمَنُوْنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وتارةً {يقولون} فيه: إنَّه {شاعرٌ}: يقول الشعر، والذي جاء به شعرٌ، والله يقول: {وما علَّمناه الشعرَ وما ينبغي له}، {نتربَّصُ به ريبَ المَنونِ}؛ أي: ننتظر به الموتَ، فيبطُلُ أمرُه ونستريح منه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔