تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 30

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیۡبَ الۡمَنُوۡنِ ﴿۳۰﴾
یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں؟ En
کیا کافر کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے (اور) ہم اس کے حق میں زمانے کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں
En
کیا کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانے کے حوادث (یعنی موت) کا انتظار کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور کبھی کبھی ﴿ یَقُوْلُوْنَ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ شاعر ہے۔ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّ٘عْرَ وَمَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ (یٰسین:36؍69) ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وتارةً {يقولون} فيه: إنَّه {شاعرٌ}: يقول الشعر، والذي جاء به شعرٌ، والله يقول: {وما علَّمناه الشعرَ وما ينبغي له}، {نتربَّصُ به ريبَ المَنونِ}؛ أي: ننتظر به الموتَ، فيبطُلُ أمرُه ونستريح منه.