تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 26

قَالُوۡۤا اِنَّا کُنَّا قَبۡلُ فِیۡۤ اَہۡلِنَا مُشۡفِقِیۡنَ ﴿۲۶﴾
کہیں گے بلاشبہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرنے والے تھے۔ En
کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہتے تھے
En
کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْۤا یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے: ﴿ اِنَّا كُنَّا قَبْلُ بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا}: في ذكر بيان الذي أوصَلَهم إلى ما هم فيه من الحبرة والسرور: {إنَّا كنَّا قبلُ}؛ أي: في دار الدُّنيا {في أهلِنا مشفقينَ}؛ أي: خائفين وجِلين، فتركْنَا من خوفه الذُّنوب، وأصلحنا لذلك العيوب.