تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے: ﴿ اِنَّاكُنَّاقَبْلُ﴾”بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔“ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِیْۤاَهْلِنَامُشْفِقِیْنَ ﴾”اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔“ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا}: في ذكر بيان الذي أوصَلَهم إلى ما هم فيه من الحبرة والسرور: {إنَّا كنَّا قبلُ}؛ أي: في دار الدُّنيا {في أهلِنا مشفقينَ}؛ أي: خائفين وجِلين، فتركْنَا من خوفه الذُّنوب، وأصلحنا لذلك العيوب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔