تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 24

وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ غِلۡمَانٌ لَّہُمۡ کَاَنَّہُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّکۡنُوۡنٌ ﴿۲۴﴾
اور ان پر چکر لگاتے رہیں گے انھی کے لڑکے، جیسے وہ چھپائے ہوئے موتی ہوں۔ En
اور نوجوان خدمت گار (جو ایسے ہوں گے) جیسے چھپائے ہوئے موتی ان کے آس پاس پھریں گے
En
اور ان کے اردگرد ان کے نو عمر غلام چل پھر رہے ہوں گے، گویا کہ وه موتی تھے جو ڈھکے رکھے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويطوف عليهم غلمانٌ لهم}؛ أي: خدمٌ شبابٌ، {كأنَّهم لؤلؤٌ [مكنون] } من حسنهم وبهائهم، يدورون عليهم بالخدمة وقضاء أشغالهم ، وهذا يدلُّ على كثرة نعيمهم وسعته وكمال راحتهم.