تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 9

یُّؤۡفَکُ عَنۡہُ مَنۡ اُفِکَ ﴿ؕ۹﴾
اس (قیامت) سے وہی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے سے) بہکایا گیا ہے۔ En
اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے
En
اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَ پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل و براہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے جس طرح حق، جسے رسول مصطفی محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، متفق علیہ ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے، اس میں کوئی تناقض ہے نہ کسی قسم کا اختلاف۔ اور یہ چیز اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا (النساء:4؍82) اور اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يؤفَكُ عنه من أُفِكَ}؛ أي: يُصْرَفُ عنه من صُرف عن الإيمان وانصرف [قلبه] عن أدلَّة الله اليقينيَّة وبراهينه. واختلافُ قولهم دليلٌ على فساده وبطلانه؛ كما أنَّ الحقَّ الذي جاء به محمد - صلى الله عليه وسلم - متَّفق؛ يصدِّقُ بعضه بعضاً، لا تناقض فيه ولا اختلاف، وذلك دليلٌ على صحَّته، وأنَّه من عند الله؛ فلو كان من عند غير الله؛ لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً.