تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 8

اِنَّکُمۡ لَفِیۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ﴿۸﴾
کہ بلا شبہ تم یقینا ایک اختلاف والی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ En
کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو
En
یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّـكُمْ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والو! تم ﴿ لَ٘فِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ مختلف قول میں ہو۔ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت اور شک نیز اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّكم}: أيُّها المكذِّبون لمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، {لفي قول مختلفٍ}: منكم من يقولُ: ساحر! ومنكم من يقول: كاهن! ومنكم من يقول: مجنون! إلى غير ذلك من الأقوال المختلفة الدالَّة على حيرتهم وشكِّهم، وأنَّ ما هم عليه باطلٌ.