تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 60

فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ یَّوۡمِہِمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾
پھر بڑی ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کے اس دن سے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔ En
جس دن کا ان کافروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے ان کے لئے خرابی ہے
En
پس خرابی ہے منکروں کو ان کے اس دن کی جس کا وعده دیئے جاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کی وعید سنائی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ پس کافروں کے لیے اس دن ہلاکت ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔جس میں ان کو مختلف قسم کے عذاب، سزاؤ ں، بیڑیوں کی وعید سنائی گئی ہے، ان کا کوئی مددگار ہو گا نہ کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہو گا۔ ہم اس عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا توعَّدهم الله بيوم القيامة، فقال: {فويلٌ للذين كفروا من يومهمُ الذي يوعَدون}: وهو يومُ القيامةِ، الذي قد وُعِدوا فيه بأنواع العذاب والنَّكال [والسلاسل] والأغلال؛ فلا مغيثَ ولا منقذَ لهم من عذاب الله. نعوذ بالله منه.