تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 59

فَاِنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذَنُوۡبًا مِّثۡلَ ذَنُوۡبِ اَصۡحٰبِہِمۡ فَلَا یَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴿۵۹﴾
پس یقینا ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، ان کے ساتھیوں کی باری کی طرح (عذاب کی) ایک باری ہے، سو وہ مجھ سے جلدی (عذاب) نہ مانگیں۔ En
کچھ شک نہیں کہ ان ظالموں کے لئے بھی (عذاب کی) نوبت مقرر ہے جس طرح ان کے ساتھیوں کی نوبت تھی تو ان کو مجھ سے (عذاب) جلدی نہیں طلب کرنا چاہیئے
En
پس جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے انہیں بھی ان کے ساتھیوں کے حصہ کے مثل حصہ ملے گا، لہٰذا وه مجھ سے جلدی طلب نہ کریں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ لوگ جنھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کر کے ظلم کا ارتکاب کیا، ان کے لیے عذاب اور سزا ہے۔ ﴿ ذَنُوْبً٘ا یعنی ان کے لیے بھی اسی طرح حصہ ہے جس طرح ان کے ساتھی اہل ظلم اور اہل تکذیب کے ساتھ کیا گیا۔ ﴿ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ۠ اس لیے وہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچائیں، کیونکہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ایک ہی ہے۔ پس ہر جھٹلانے والا شخص جو اپنی تکذیب پر جما ہوا ہے جو توبہ کرتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اس پر عذاب ضرور واقع ہو گا، خواہ کچھ مدت کے لیے موخر ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {فإنَّ للذين ظلموا}: بتكذيبهم محمداً - صلى الله عليه وسلم - من العذاب والنَّكال {ذَنوباً}؛ أي: نصيباً وقسطاً، مثل ما فُعِلَ بأصحابهم من أهل الظُّلم والتكذيب، {فلا يستعجلونَ}: بالعذاب؛ فإنَّ سنة الله في الأمم واحدةٌ؛ فكلُّ مكذِّب يدوم على تكذيبه من غير توبةٍ وإنابةٍ؛ فإنَّه لا بدَّ أن يقع عليه العذابُ ولو تأخَّر عنه مدَّة.