تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 49

وَ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۹﴾
اور ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ En
اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تاکہ تم نصیحت پکڑو
En
اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا پیداکیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمِنْ كُ٘لِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں۔ ﴿ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّـرُوْنَ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے دوڑے بناکر تم پر کیں، غور و فکرکرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش، ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے ہیں۔ ﴿ فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ لہٰذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومن كلِّ شيءٍ خَلَقْنا زوجين}؛ أي: صنفين ذكرٍ وأنثى من كلِّ نوع من أنواع الحيوانات، {لعلَّكم تذكَّرونَ}: لنعم اللهِ التي أنعم بها عليكم في تقدير ذلك وحكمتِهِ؛ حيث جعل ما هو السبب لبقاء نوع الحيوانات كلها؛ لتقوموا بتنميتها وخدمتها وتربيتها فيحصل من ذلك ما يحصل من المنافع.