تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 48

وَ الۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰہَا فَنِعۡمَ الۡمٰہِدُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور زمین، ہم نے اسے بچھا دیا، سو( ہم) اچھے بچھا نے والے ہیں۔ En
اور زمین کو ہم ہی نے بچھایا تو (دیکھو) ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں
En
اور زمین کو ہم نے فرش بنا دیاہے پس ہم بہت ہی اچھے بچھانے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں، مثلاً: گھر بنانا، باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمد و ثنا بیان کرتے ہو ئے فرمایا: ﴿ فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ پس ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والأرضَ فَرَشْناها}؛ أي: جعلناها فراشاً للخلق يتمكَّنون فيها من كلِّ ما تتعلَّق به مصالحهم من مساكنَ وغراسٍ وزرعٍ وحرثٍ وجلوسٍ وسلوكٍ للسُّبل الموصلة إلى مقاصدهم ومآربهم. ولمَّا كان الفراشُ قد يكون صالحاً للانتفاع من كلِّ وجهٍ، وقد يكون من وجهٍ دون وجهٍ؛ أخبر تعالى أنه مَهَدَها أحسنَ مهادٍ على أكمل الوجوه وأحسنها، وأثنى على نفسه بذلك، فقال: {فنعمَ الماهِدونَ}: الذي مَهَدَ لعبادِهِ ما اقتضتْه حكمتُه ورحمتُه.